رمز جون ایلیا کی نظم "رمز" ان کی کتاب "شاید" میں موجود ہے۔ تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا نوٹ: اس نظم کا وزن فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے۔
هرچند حیا میکند از بوسه ما دوست دلتنگی ما بیشتر از دلهره اوست ہرچند میرے دوست کو میرے بوسہ سے حیا آتی ہے میرے دل کی اداسی اس کے خدشات سے کئی گنا زیادہ ہے الفت چه طلسمی است که باطل شدنی نیست اعجاز تو ای عشق نه سحر است نه جادوست محبت بھی کیا طلسم ہے کہ جس کا باطل ہونا ممکن نہیں اے عشق تیرا معجزہ ہے کہ تو سحر ہے نہ جادو ہے ای کاش شب مرگ در آغوش تو باشم زھری که بنوشم ز لب سرخ تو داروست اے کاش جس رات میری روح پرواز کرے میں تیری آغوش میں ہوں وہ زہر جو میں تیرے سرخ لبوں سے پیتا ہوں(میرے لیے) دوا ہے یک بار دگر بار سفر بستی و رفتی تا یاد بگیرم که سفر خوی پرستوست تو نے اک بار پھر بار سفر باندھا اور چل دیا تاکہ میں ذہن نشین کر لوں ہجرت کرنا پرستو(ایک قسم کی چھوٹی چڑیا) کی جبلت میں شامل ہے۔ عمار اقبال کا شعر دیکھیں: ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا تم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو از کوشش بیهودہِ خود دست کشیدم در بسترِ مُرداب چه حاجت به تکاپوست میں نے اپنی فضول کوششوں سے ہاتھ کھینچ لیا کہ دلدل میں تگ و دو کرنے کی کیا حاجت ہے (آخر کار غرق ہی ہونا ہے) فاضل نظری جدید ایرا...
پاکستان کے فارسی گو شاعر اقبال لاہوری کے بارے میں، ہوشنگ ابتہاج سایہ اپنی کتاب پیر پرنیان اندیش کی جلد دوم ص 845 پر لکھتے ہیں: (عظیمی اور سایہ کے درمیان مکالمہ) عظیمی : آپ اقبال لاہوری کے بارےمیں کیا رائے رکھتے ہیں؟ سایہ : شاعر برا نہیں ہے لیکن کہیں بہت اعلی لکھتا ہے تو کہیں سطحی، بس اس کی شعریات اسی پریشان حالی کا شکار ہے۔ بہت جگہوں پر اس کی فارسی زبان دانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ خیر، وہ اہل زبان نہیں ہے۔ لیکن بعض جگہوں پر اس نے بہت اعلی بھی لکھا ہے۔ عظیمی : مثال کے طور پر کن جگہوں پر؟ سایہ : مثلا وہ شعر کہ ھستم اگر میروم ساحل افتاده گفت گرچه بسی زیستم هیچ نه معلوم گشت آه که من کیستم موج زخود رفتهای تیز خرامید و گفت هستم اگر میروم گر نروم نیستم یا یہ شعر بہت عجیب و غریب ہے۔ ما زنده برآنیم که آرام نگیریم موجیم که آسودگی ما عدم ماست یا وہ عزل کہ خود گری، خود شکنی،خود نگری۔۔۔۔۔ بہترین غزل ہے۔ نعره زد عشق که خونینجگری پیدا شد حسن لرزید که صاحبنظری پیدا شد فطرت آشفت که از خاک جهان مجبور خودگری خودشکنی خودنگری پیدا شد خبری رفت ز گردون ب...
This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteKhoob 💕😍
ReplyDelete