Posts

Showing posts with the label فارسی

ایرانی گلوکار عارف کا نغمہ "معجزہ ی عشق" مع اردو ترجمہ

Image
 معجزہ ی عشق (عشق کا معجزہ) عطر نفس هات ، خوشبو ترین عطر تیرے سانسوں کی مہک، خوش ترین مہک چتریِ موهات زیباترین چتر تیری زلفوں کے کنڈل، خوب صورت ترین چھلے موهای لَختت میرقصه توو باد تیرے بے پردہ نرم بال ہوا میں رقص کرتے ہیں پیشِ تو غم ها ، به چشم نمیاد  جیسے تیرے ہوتے ہوئے غم نہیں ہوتے ہیں صورتِ ماهت یه قرصِ کامل تیری صورت جیسے چودھویں کا چاند دریا به جز تو ندیده ساحل دریا نے تیرے سوا کوئی ساحل نہیں دیکھا معجزه ی عشق تو هستی و بس یہ صرف و صرف تیرے عشق کا معجزہ ہے دلم برات رفت دلت باهام هست میرا دل تیرا ہو گیا اور تیرا دل میرا ہم راہ ہے تو با منی دنیا بی نقص بی نقص تو میرے ساتھ ہے تو دنیا مکمل ہے مکمل ہے  موهای لَختِ تو توو باد میرقصه تیری بے پردہ نرم زلفیں ہوا میں رقص کر رہی ہیں من عاشقت میشم وقتی که میخندی جس وقت تو ہنستی ہے میرا دل تیرا عاشق ہو جاتا ہے وقتی که میخندی یه شهرو میبندی جس وقت تو ہنستی ہے ایک شہر محو ہو جاتا ہے تو با منی دنیا بی نقص بی نقص تو میرے ساتھ ہے تو دنیا مکمل ہے مکمل ہے جز تو با سازِ من هیچکی نمیرقصه تیرے سوا میرے ساز پر کوئی رقص نہیں کرتا ہے تو با ...

فارسی نظم "تنهایی" مع اردو ترجمہ

  تنهایی معلم نیستم  تا عشق را بہ تو بیاموزم! ماھیان برای شِنا کردن نیازی بہ آموزش ندارند! پرندگان نیز؛برای پرواز..... بہ تنھائی شِنا کن! بہ تنھائی بال بگشا عشق،کتابی ندارد! خواندن نمی دانستند! اردو ترجمہ: میں اتالیق و معلم نہیں ہوں  کہ تمہیں عشق و محبت کے گُر سیکھاوں! مچھلیوں کو تیرنے کے لیے  تعلیم کی کوئی حاجت نہیں ہوتی/ پرندوں کو بھی؛پرواز کے لئے... اکیلے ہی تیرو!  اکیلے ہی اڑان بھرو!!! عشق کی کوئی کتاب نہیں ہوتی  دنیا کے عظیم عشاق(عاشق)!! پڑھنا نہیں جانتے تھے... * مہدی سبطین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ * طالب علم شعبہ فارسی جی سی یونیورسٹی، لاہور

پیر پرنیان اندیش در صحبتِ سایہ اور اقبال لاہوری

Image
پاکستان کے فارسی گو شاعر اقبال لاہوری کے بارے میں، ہوشنگ ابتہاج سایہ اپنی کتاب پیر پرنیان اندیش کی جلد دوم ص 845 پر لکھتے ہیں:  (عظیمی اور سایہ کے درمیان مکالمہ) عظیمی : آپ اقبال لاہوری کے بارےمیں کیا رائے رکھتے ہیں؟ سایہ : شاعر برا نہیں ہے لیکن کہیں بہت اعلی لکھتا ہے تو کہیں سطحی، بس اس کی شعریات اسی پریشان حالی کا شکار ہے۔ بہت جگہوں پر اس کی فارسی زبان دانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ خیر، وہ اہل زبان نہیں ہے۔ لیکن بعض جگہوں پر اس  نے بہت اعلی بھی لکھا ہے۔ عظیمی : مثال کے طور پر کن جگہوں پر؟ سایہ : مثلا وہ شعر کہ ھستم اگر میروم ساحل افتاده گفت گرچه بسی زیستم     هیچ نه معلوم گشت آه که من کیستم موج زخود رفته‌ای تیز خرامید و گفت     هستم اگر می‌روم گر نروم نیستم یا یہ شعر بہت عجیب و غریب ہے۔  ما زنده برآنیم که آرام نگیریم موجیم که آسودگی ما عدم ماست یا وہ عزل کہ خود گری، خود شکنی،خود نگری۔۔۔۔۔ بہترین غزل ہے۔ نعره زد عشق که خونین‌جگری پیدا شد حسن لرزید که صاحب‌نظری پیدا شد فطرت آشفت که از خاک جهان مجبور خودگری خودشکنی خودنگری پیدا شد خبری رفت ز گردون ب...

امیر ہوشنگ ابتہاج سایہ: تعارف

Image
نام، آقا امیر ہوشنگ ابتہاج سایہ ہے۔ ایران اور فارسی زبانیان کے یہاں استاد ہ۔ ا۔ سایہ کے نام سے مشہور ہیں۔ کسی دور میں جب ہم فارسی غزلوں کی تلاش میں میاں گوگل کی وساطت سے بڑے بڑے برقی صفحات کے پلندوں کی خاک چھانا کرتے تھے۔ اسی دوران میں ہمیں ایک غزل ملی۔ جس کا ایک مصرع لکھنا ہی کافی ہے (کیوں کہ یہ غزل  اہل فارسی زبان اور دانش جویان فارسی زبان میں خاصی مشہور ہے۔) " درین سرای بی کسی کسی به در نمی زند"۔ غزل تو کیا عمدہ تھی، شخصیت دیکھی تو اور بھی مرعوب ہو گئے۔ ایرانی شیریں زبان تو ہیں لیکن اس کے ساتھ فسوں ساز بھی ہیں۔  چون کہ ہم ایران کبھی نہیں گئے (مستقبل قریب میں جانے کا کوئی امکان بھی نہیں)۔ اس لیے سایہ کی چند تصاویر نظر سے گزری ہیں۔ کیا رخ نورانی ہے اور اشعار، اللہ اللہ جادو بیانی ہے۔ سرخ گال اور سپید ریش، مونچھیں جیسے لعل نما ہونٹوں پر غلاف ہو، گرانڈیل توند، ناتواں جسم مگر طاقت ور دماغ۔  جب بھی ہم سے کسی عزیز از جان نے یہ دریافت کیا ہے کہ حضور آپ کا پسندیدہ فارسی شاعر کون سا ہے؟ تو یقینا ہم خس بہ دنداں ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اجی کس کا نام لیں کس کا نہ لیں۔ خ...

فیض احمد فیض کی فارسی نعت مع ترجمہ

Image
فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک کے نمائندہ شاعر تھے۔ انھوں نے تمام عمر خواجگانِ تخت اور صاحبِ ملک و مال کے خلاف آواز اٹھائی اور عام آدمی پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں بیان کیں۔ فیض کو روس کی طرف سے لینن پرائز بھی دیا گیا۔ ان کا کلیات " نسخہ ہائے وفا" کے نام سے شائع ہوا۔ فیض انگریزی کے پروفیسر تھے۔ انھوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے۔ لیکن ان کا اردو کلیات منظرِ عام پر آیا اور فارسی اشعار بھی اسی میں شامل ہیں۔ فیض کی ایک فارسی نعت جو ان کی کتاب غبار ایام میں شامل ہے۔ وہ ترجمہ کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔ ای تو که ھست هر دل محزون سرایِ تو آوردہ    ام   سرایِ   دگر   از   برا یِ   تو اے رسول اللہ ص ہر غم زدہ دل میں آپ بستے ہیں ۔میں نے  آپ کے لیے ایک اور گھر بنایا ہے تاکہ میرے غمزدہ دل میں آپ کا ٹھکانہ ہو جائے۔ خواجہ بہ تخت بندۂِ تشویشِ ملک و مال بر خاک رشکِ خسروِ دوران گدایِ تو امیر تخت پر بیٹھ کر ملک و مال کے لیے پریشان ہے جبکہ تیرا گدا زمین پر بیٹھا ہوا خسروِ دوراں کے لیے قابل رشک ہے۔ آنجا قصید...

غالب کا فارسی کلام اور شیفتہ کی پسند

Image
غالب کا فارسی کلام اور شیفتہ کی پسند غالب اردو کے ساتھ ساتھ فارسی کے بھی عمدہ شاعر تھے۔ انھوں نے فارسی میں بھی عمدہ اشعار تخلیق کیے ۔ غالب نے فارسی ایک ایرانی شاعر ملا عبدالصمد سے پڑھی تھی۔ اسی سلسلے میں ملا عبدالصمد نے غالب کے یہاں دو سال قیام بھی کیا تھا۔  غالب نے اپنے خطوط میں بھی اپنی فارسی دانی کا بہت فخر سے ذکر کیا ہے۔ وہ تمام عمر اپنے فارسی کلام پر نازاں  رہے۔ چوں کہ اِس دور میں فارسی پاکستان میں نہیں بولی جاتی اور نہ ہی اس پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس لیے غالب کے فارسی دیوان پر زیادہ کام نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ دیوان فارسی عام لوگوں کی فہم اور دست رس سے کوسوں دور ہے۔  غالب کے دور میں نواب مصطفی خاں شیفتہ کا چرچا تھا۔ نواب صاحب کا شمار دلی کے اچھے شعرا میں ہوتا تھا ۔ نواب صاحب فارسی کے عالم تھے اور شعر بھی کہتے تھے۔  فارسی اشعار میں حسرتی تخلص کرتے تھے۔ غالب کوئی غزل اس وقت تک اپنے فارسی دیوان میں شامل نہ کرتے۔ جب تک شیفتہ اسے پسند نہ کر لیتے۔ غالب کے دیوان فارسی میں صرف وہ غزل شامل کی جاتی جسے شیفتہ پسند کرتے۔  اس بارے میں غالب نے ایک شعر ...